HumaZ Life Path Class Library

Full of contradictions, Fighting to unravel the Mysteries & discover my True calling and make others discover theirs through Thought-Provoking Life Path posts.Come join me in the quest for peace, discovery and knowledge. Share & View your reflections in the journey with my Words , Meet Me & Meet yourself on this pebbly road, deep trench and steep slope called – The Life Path….

Food For Thought – One Liner (6) June 25, 2009

numbers

“How can something Add up to Nothing!!”

by Zuellah Huma Ahmed


 

Bedoun Ism – Lahza e Muqtadir June 22, 2009

لحظہِ مقتدر

اب تو اُس لمحے کا انتظار ھے صرف
جس میں نہ ڈر ھو، نہ خوف ھو
نہ غموں کا کوئی ساتھ ھو
جس میں آلام سے فراق ھو
جس میں منزل کا طواف ھو
اب تو اُس لمحے کا انتظار ھے صرف
جس میں ھجر ھو، آزادی ھو
جس میں دوری اور ملاپ ھو
جو رنگوں کا اختلاف ھو
جس میں بیجان ھونے پہ جان آئے
جس کی حقیقت میں خواب سما جائے
جس میں سانسوں کا تھماؤ ھو
جس میں زندگی کا جھکاؤ ھو
جس میں اِس قفس سے نجات ھو
جس میں حیات کا اعتراف ھو
جس میں آنکھیں بند ھونے پر بھی
ھم پر روشنی کا غلاف ھو

by Zuellah Huma Ahmed

I need a name….Please suggest One!!

سوکھے پتّے

سوکھے پتّے جب بھی شجر سے جھڑتے ھیں
نۓ آنے والوں کو خوش آمدید کہتے ھیں
اِن پر قدم رکھتے ھی ھوتا ھے شور و غل برپا
داستانِ زمانہ اپنے اندر رکھتے ھیں
اِن کی قسمت میں ھے اندھیروں میں دفن ھونا
بےجان ھو کر بھی یہ اثر رکھتے ھیں
تپتی دھوپ میں جھلس کر بھی ، یہ
برسوں کا صبر اپنے اندر رکھتے ھیں
شاخ سے کٹ کر ، جیسے قطرے مٹی میں جزب ھوکر
حیاتِ نو کا سمندر اپنے اندر رکھتے ھیں
سبز پتّے ٹہنیوں کے سنگ پیوستہ
خاموش ھیں ، زندگی کا لمبا سفر ابھی رکھتے ھیں

حقیر پتّے

اونچے محلوں سے جو آواز نکلتی ھے
وہ ھمارے لہجے سے کتنی ملتی ھے
جو صدا دیتے ھیں سوکھے پتّے
وہ کانوں تک کہاں پہنچتی ھے؟
نادان ھیں جو انہیں قدموں تلے روندتے ھیں
کچلنے سے آواز کہاں دبتی ھے؟
اِن کو حقیر سمجھنے والے دیوانے ھیں
کمزور تنکوں سے ھی آگ سلگتی ھے
اِن کی رنگت پے کیوں جاتے ھو دنیا والو
اِنھیں میں پِِنہاں طاقت سے کسی کو نئ زباں ملتی ھے
وہ سمجھتے ھیں کے نہ اہل ھو چکے ھیں یہ نہ تواں
کیا نہیں جانتے ، خس و خاشاک سے ھی دریاوِں کی روانی رکتی ھے
ذرا دیر کو کھیل اِنہیں کھیلنے دو
دیکھیں ، کھبی زرد رنگ سے بھی ھولی سجتی ھے

خشک پتّے

خشک پتّوں کی طرح میری آرزویئں ا ُُڑ گیئں
جہاں سے چلی تھیں وھاں آکے ر ُک گیئں
میں تو سمجھی تھی اِن پتّوں میں کتنا عروج ھے
ھوا تھمی ، حقیقت کھلی کہ یہ ا ُڑنا بےسود ھے
ا ُڑتے ا ُڑتے بادلوں پر محلوں تک پہنچ گئے
لمحے بھر میں یہ محل بھی روئ میں بدل گئے
جس طرف لے چلے ، ا ُس طرف کو چل دیے
اوپر جو گئے تھے اب بارشوں سے د ُھل گئے
گُونجتی ھوئ بجلیاں جو اِک لمحے کو تھم گیئں
تو یہ ردھا/ردا ا ُوڑھ کر قدم اِن کے جم گئے
اِس چمک سے آنکھ بند ، جو ذرا دیر کو ھوگئ
خوف سے چہرہ بھرا ، حشر سے دھل گئے
سہم سہم کر گھومتے ، گردشوں میں جھومتے
مایوسیاں لپٹ گیئں ، کفن میں سمٹ گئے
آخرکار ، یہ زمیں پر چاروں ا ُور بکھر گئے
ا ُتھانے جو آگے بڑھے ، پھر ہاتھ سے نکل پڑے
جھونکے جو ٹکرائے تو ، خشک کر کے چل دیے
قدموں کے سنگ سنگ تھوڑی دور ھِل پڑے
تیز ھوا کہ شور میں یہ پر کٹے ا ُتھ پڑے
سفر کے اختتام پر پھر اپنے گھر آبسے
نیلگوں آسماں پر تارے جب جگمگا ا ُٹھے
تو اِس روشنی کے راستے ، وہ اپنا در کٹھکٹھا سکے
اپنے گھر کے راستے ، اپنے گھر کو آچکے
آواز جو دب گئ ، دل پھڑپھڑا ا ُٹھے
جہاں سے چلے تھے وہیں واپس آبسے
ابتدا کو اختتام سے یہ دیوانے ملا چکے
میری آرزوؤں کی طرح خشک پتّے بکھر گئے
جہاں سے چلے تھے وھیں آکے رُ ک گئے
خشک پتّوں کی طرح میری آرزویئں ا ُُڑ گیئں
جہاں سے چلی تھیں وھاں آکے ر ُک گیئں

________

موتی

خوبصورتی کے رنگوں میں پروئے موتی

جھلک کر گر چکے ھیں آسماں سے

ھم نے دامن پھیلا کر آگے

بھر لیا اِسے اِن نہ آشناؤں سے

پھر پیار کے دھاگے میں پرونے کے بعد

کامل کیا گلے سے لگا کر، جو نہ مکمل تھے

ذرا سا جھٹکنے سے ھی یہ دلفریب

تمام حدوں کو پار کر گئے

کہا تھا کہ کل آرزو کے در پہ

سجائیں گے یہ نایاب موتی

ھوگئے فاصلے بہت دور مگر

جب گِر کر بکھر پڑے یہ بدنصیب موتی

اب ھم اِن کی تلاش کیا کریں

بدگمان کر چکے ھیں یہ بےوجود موتی

<span style=”color:#993300;”><span style=”color:#99cc00;”>All rights reserved by Zuellah Huma Ahmed</span>

</span></address>

Arabicجميع الحقوق محفوظة

Urduجملہ حقوق محفوظ ہیں


اب تو اُس لمحے کا انتظار ھے صرف

جس میں نہ ڈر ھو، نہ خوف ھو

نہ غموں کا کوئی ساتھ ھو

جس میں آلام سے فراق ھو

جس میں منزل کا طواف ھو

اب تو اُس لمحے کا انتظار ھے صرف

جس میں ھجر ھو، آزادی ھو

ھو دوری اور ملاپ جس میں

جو رنگوں کا اختلاف ھو

جس میں بیجان ھونے پہ جان آئے

جس کی حقیقت میں خواب سما جائے

جس میں سانسوں کا تھماؤ ھو

جس میں زندگی کا جھکاؤ ھو

جس میں اِس قفس سے نجات ھو

جس میں حیات کا اعتراف ھو

جس میں آنکھیں بند ھونے پر بھی

ھم پر روشنی کا غلاف ھو

 

Food For Thought – One Liner (5) June 20, 2009

“Education didn’t teach me anything; I taught myself education!!”

by Zuellah Huma Ahmed


Education didnt teach me anything;I taught myself education!!E

 

Randomizing Wildness June 18, 2009

Dwelling in the deeper recesses of my mind

Flooding with thoughts, my mind racing fast

I dwell on food for thought from my past

It is like a rich spell; over cast

by Zuellah Huma Ahmed

 

Randomizing Wildness

Dwelling in the deeper recesses of my mind

Flooding with thoughts, my mind racing fast

I dwell on food for thought from my past

It is like a rich spell; over cast

by Zuellah Huma Ahmed

 

Food For Thought – One Liner (4) June 15, 2009

“Absolutness in Man is only Absolute to his own Relativeness”

OR

“Man is only Absolute to the Relativeness he creates in him”

by Zuellah Huma Ahmed

 

Food For Thought – One Liner (3) June 12, 2009

“Discover yourself by discovering you are LOST”

by Zuellah Huma Ahmed